Thursday, 13 October 2016

Wednesday, 12 October 2016

زمین کے متعلق کچھ اہم معلومات...






ہر سال 22 اپریل، کو زمین کا دن منایا جاتا ہے.

زمین نظام شمسی کے آٹھ سیاروں میں سورج کی طرف سے تیسرا سیارہ ہے. اس کا نام زمین، نیلا سیارہ، دنیا ، اور مٹی کے طور پر بهی ہوتا ہے.
نیلے ماربل سیارے اور ٹیرا “Terra” یا گئیا “Gaia” کے بعد زمین سورج سے تیسرا نزدیک ترین سیارہ ہے.
سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زمین کی عمر 4.54 ارب سال ہے

زمین نہ صرف انسان کا بلکہ دیگر لاکھوں جانداروں کا بھی گھر ہے اور ساتھ ہی ابهی تک معلوم کائنات میں واحد معلوم مقام ہے جہاں زندگی کا وجود پایا جاتا ہے. اس کی سطح پر زندگی کی شروعات تقریبا ایک ارب سال پہلے ظاہر ہوئی. زمین پر زندگی کی پیدائش کے لئے موزوں ماحول (جیسے سورج سے عین مطابق فاصلے وغیرہ) نہ صرف پہلے سے دستیاب تھے بلکہ زندگی کی اصل کے بعد سے ترقی تاکہ جانداروں نے اس سیارے کے ماحول اور دیگر ماحولیاتی حالات کو بھی تبدیل کیا ہے اور اس کے ماحول کو موجودہ شکل دی ہے. زمین کے ماحول میں آکسیجن کی کثرت سے موجودگی میں بهی ان جانداروں کا حصہ ہے.

Tuesday, 11 October 2016

کیا آپ جانتے ہیں..؟


Rafflesia Arnoldi

، دنیا میں سب سے بڑا پھول ہے جِس کا وزن7 کلو (15 پاؤنڈ) ہوتا ہے اور یہ صرف انڈونیشیا کے سماٹرا اور بورنی جزیرے  پایا جاتا ہے۔ اس کی پنکھڑیاں 1.6 فُٹ (1 میٹر) طویل اور 1 انچ (2.5 سینٹی میٹر) تک موٹی ہوتی ہیں۔

سورج سے متعلق دلچسپ حقائق





سورج سے متعلق  دلچسپ حقائق




سورج کے گرد نو اہم سیارے گردش کرتے ہیں : عطارد ، زہرہ ، زمین ، مریخ ، مشتری
، زحل ،Uranus ، نیپچون ، اور پلوٹو
 (جدید تحقیق کی بنا پر پلوٹو کو 2006 میں ہمارے نظامِ
شمسی سے خارج قرار دیا گیا ہے)۔

سورج نظام شمسی کی 99،85 ٪ کمیت پر مشتمل ہے


 سورج کی موجودہ عمر اندازے  کے مطابق 4.6  ارب

سال ہے

ہر سیکنڈ میں سورج چار ملین ٹن ہائیڈروجن خرچ کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ سورج  75 فیصد ہائیڈروجن،23
فیصد ہیلئم  اور 2 فیصد بھاری عناصر پر مشتمل ہے۔

سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ سورج اپنی کور میں جمع شدہ ہائیڈروجن کو اگلے پانچ ارب سال تک جلانا جاری رکھے گا اور اس کے بعد ہیلئم سورج کا پرائمری ایندھن بن جائے گا۔


سائنس کیا ہے..؟




       


                                                           سائنس کیا ہے؟
سائنس کی ایک اہمیت اور بھی ہے جسے ہم روحانی اہمیت کہہ سکتے ہیں ۔ اس اہمیت کا دار و مدار اس پر ہے کہ
سائنس کس حد تک انسانی عقل اور سوجھ بوجھ کے دریچے کھولتی ہے یا نئے رشتے پیدا کرنے میں کہاں تک معاون بنتی ہے ۔ ان نئے نئے پیدا کئے رشتوں سے ایک نئی قوت کا احساس ہوتا ہے ۔ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ سائنس کا اصل مقصد ہماری سوجھ بوجھ اور علم میں اضافہ کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ہمیں ایک نئی قوت کا احساس بھی ہوتا ہے لیکن جو جذبہ اسان کو بھر پور عمل کے لئے تیار کرتا ہے وہ سائنس ہی سے پیدا ہوتا ہے اس اعتبار سے جو لوگ زندگی میں عملی زندگی پر زور دیتے ہیں وہ صحیح معنوں میں سائنسداں کہے جاسکتے ہیں ویسے اس میں شک نہیں کہ علم کے ساتھ عمل کا پہلو ہر انسان کے ساتھ وابستہ ہے لیکن عمل سے لگاؤ اور اس کی شدت ہر انسان میں مختلف ہوتی ہے تو سائنسداں ایک حد تک سائنٹفک نظریہ رکھتا ہے کیونکہ وہ سائنس ہی کے ذریعہ زندگی کے سب کام کاج کے بارے میں سوچتا سمجھتا ہے ۔